ایک دن فرفری نگر میں سورج کی روشنی چمک رہی تھی اور لوگ اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ موتو اور پٹلو اپنی پسندیدہ سموسہ دکان کے پاس گھوم رہے تھے، جب موتو نے ایک عجیب سی چیز دیکھی۔ “پٹلو، دیکھو! وہاں کچھ چمک رہا ہے!” موتو نے حیرت سے کہا۔ پٹلو نے اس کی طرف دیکھا اور بولا، “چلو دیکھتے ہیں موتو۔ شاید کوئی نیا ایڈونچر ہمیں ملنے والا ہے۔” دونوں دھیرے دھیرے چمک کی طرف بڑھے۔ وہاں انہوں نے دیکھا ایک پرانا صندوق جس سے ہلکی روشنی نکل رہی تھی۔ “یہ تو جادوئی صندوق لگتا ہے!” پٹلو نے سوچ کر کہا۔ موتو نے بغیر سوچے صندوق کھول دیا۔ جیسے ہی ڈھکن اُٹھایا، ایک تیز روشنی پھیل گئی اور دونوں ہوا میں اچھل گئے۔ جب انہوں نے آنکھیں کھولی، وہ ایک پرانے شہر کی گلیوں میں تھے جہاں سب کچھ عجیب اور رنگین تھا۔ “پٹلو، ہم کہاں آ گئے؟” موتو نے ڈر کے ساتھ پوچھا۔ تبھی ان کے سامنے ایک چھوٹا سا ایلْف آیا۔ “خوش آمدید، ہیروز! مجھے تم دونوں کی مدد چاہیے۔ ہمارے شہر کے بادشاہ کا خزانہ چور لے گیا ہے اور ہمیں اسے واپس لانا ہے۔” موتو اور پٹلو نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ “ایڈونچر! چلو شروع کرتے ہیں!” پٹلو نے خوش ہو کر کہا۔ دونوں نے ایلْف کی مدد سے جنگل اور پہاڑوں سے گزرتے ہوئے خزانے تک کا راستہ تلاش کیا۔ راستے میں انہیں کئی چیلنجز ملے: ایک درخت پر الٹا چلنے والا پل، ایک بندر جو ہمیشہ چیزیں چرا لیتا تھا، اور ایک تیز ندی۔ موتو نے اپنی طاقت سے درخت کو ہلایا اور پٹلو نے اپنی عقل سے بندر کو چکما دیا۔ ندی پار کرتے وقت موتو کا پاؤں پھسل گیا، لیکن پٹلو نے فوراً اسے پکڑ لیا۔ دونوں نے ہاتھ ملا کر مشکل کا سامنا کیا اور آگے بڑھے۔ آخر میں وہ خزانے کے پاس پہنچے۔ لیکن خزانے کے اوپر ایک بڑا سا ڈریگن تھا! موتو تھوڑا ڈرا، لیکن پٹلو نے سمجھایا، “ڈرنے کی بات نہیں موتو۔ ہم حکمت سے اسے شکست دے سکتے ہیں۔” پٹلو نے ڈریگن کا دھیان اپنی طرف کھینچا اور موتو نے خزانہ اٹھا لیا۔ دونوں نے ساتھ مل کر زور لگایا اور ڈریگن بھاگ گیا۔ خزانہ واپس کرنے کے بعد ایلْف نے دونوں کا شکریہ ادا کیا۔ “تم دونوں واقعی ہیروز ہو!” موتو نے مسکرا کر کہا، “اور پٹلو، ہم نے پھر سے دکھا دیا کہ دوستی اور ہمت سے کوئی بھی مشکل حل کی جا سکتی ہے۔” دونوں واپس فرفری نگر آگئے، سموسے کھاتے ہوئے اپنی ایڈونچر کی یادیں یاد کر رہے تھے۔ اور اس طرح موتو اور پٹلو کی دوستی اور مضبوط ہو گئی اور لوگوں کو ایک اور نئی کہانی سننے کو ملی۔
43
Views
0
Likes
0
Comments
0
Shares