🌙 فرماں بردار بیٹا ایک گاؤں میں ایک نیک عورت اپنے چھوٹے بیٹے احمد کے ساتھ رہتی تھی۔ احمد بچپن سے ہی اپنی ماں کی بات مانتا، اور جب بھی اذان کی آواز سنتا، وضو کر کے مسجد چلا جاتا۔ اس کی ماں جب کبھی تھک جاتی، تو احمد خود ہی پانی لا کر کہتا: "امی! آپ آرام کریں، میں سب کر لوں گا۔" وقت گزرتا گیا، احمد بڑا ہوتا گیا۔ اب وہ پانچ وقت کا نمازی، ایماندار اور محنتی نوجوان بن چکا تھا۔ ماں کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنا ہی اس کی سب سے بڑی خوشی تھی۔ ایک دن احمد نے ماں سے کہا: "امی! اب میں بڑا ہو گیا ہوں۔ میں محنت کروں گا تاکہ آپ کو کبھی کسی چیز کی کمی نہ ہو۔" احمد دن رات محنت کرتا، کبھی دھوپ میں، کبھی سردی میں، مگر دل میں سکون تھا — کیونکہ وہ جانتا تھا کہ "میری ماں کی دعا ہی میری کامیابی کا راز ہے۔" وقت کے ساتھ احمد کامیاب تاجر بن گیا، لیکن غرور کبھی نہ آیا۔ اب بھی وہ ہر نماز مسجد میں پڑھتا، اور ماں کے قدموں میں بیٹھ کر ان کے ہاتھ چومتا۔ ماں اکثر کہتی: "جس نے ماں کی خدمت کی، اللہ اُس کے رزق میں برکت دیتا ہے۔" اور واقعی، احمد کی زندگی برکتوں سے بھر گئی تھی۔ سِکھ: 🌸 "جو بچہ اپنی ماں کا فرمانبردار اور نماز کا پابند ہوتا ہے، اللہ اس کے رزق میں، عمر میں اور عزت میں برکت عطا کرتا ہے۔" 🌸 کیا آپ چاہیں گے کہ میں اس کہانی کو نظم (شاعری) کی شکل میں بھی لکھ دوں؟ تاکہ بچے آسانی سے یاد کر سکیں
17
Views
0
Likes
0
Comments
0
Shares